Words of Success

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سورة الاخلاص کی فضيلت

سورة الاخلاص کو روزانہ 300 مرتبہ باوضو پڑھنے سے 9 فائدے حاصل ہونگے:
الله تعالیٰ 300 دروازے غضب کے بند کرے گا، مثلاً دشمنی، قہر، فتنہ وغيره۔
300 دروازے رحمت کے کھولے گا۔
الله تعالیٰ 300 دروازے رزق کے کھولے گا۔ الله تعالیٰ بغير محنت کے اپنے غيب سے رزق عطا کرے گا۔
الله پاک اپنے علم سے علم٬ صبر اور سمجھ عطا کرے گا۔
36 مرتبہ قرآن مجيد ختم کرنے کا ثواب ملے گا۔
50 سالوں کے گناه معاف ہوں گے۔
الله تعالیٰ جنت میں (20) بیس محل دے گا٬ جو ياقوت، مرجان اور زمرد سے بنے ہوئے ہوں گے۔ ہر محل میں 70 هزار دروازے ہوں گے۔
2 ہزار نفل رکعتوں کا ثواب ملے گا۔
جب بھی مرے گا تو ميت میں ایک لاکھ دس ہزار فرشتے شامل ہوں گے۔

دل میں بے چینی ہو تو
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُؕ۝۲۸ (سورة الرعد)
اگر کسی کی دل میں بےچینی ہو تو اس آیت کو سینے پر 3 مرتبہ پڑھ کر دم کرے٬ انشاء اللہ تعالیٰ آرام مل جائے گا۔

#آیات_شفاء
======

امام طریقت ابوالقاسم قشیری رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے فرماتے ہیں کہ ان کا بچہ بیمار ہو گیا اسکی بیماری اتنی سخت ہو گئی کہ وہ قریب المرگ ہو گیا وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلي الله تعالٰی عليه و اٰلہِ وسلم کو خواب میں دیکھا اور حضور صلي الله تعالٰی عليه و اٰلہِ وسلم کی خدمت میں بچہ کا حال عرض کیا حضور صلي الله تعالٰی عليه و اٰلہِ وسلم نے فرمایا تم آیاتِ شفاء سے کیوں دور رہتے ہو کیوں ان سے تمسک نہیں کرتے اور شفاء نہیں مانگتے میں بیدار ہو گیا اور اس پر غور کرنے لگا تو میں نے ان آیاتِ شفاء کو کتاب الہٰی میں چھ جگہ پایا وہ یہ ہیں :

1: وَيَشۡفِ صُدُورَ قَوۡمٍ مُّؤۡمِنِينَ
(التوبہ 14:9)
اور اللہ تعالی شفاء دیتا ہے مومنین کے سینوں کو”

2: وَشِفَآءٌ۬ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ
( یونس 57:10)
سینوں میں جو تکلیف ہے ان سے شفاء ہے

3: يَخۡرُجُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخۡتَلِفٌ أَلۡوَٲنُهُ ۥ فِيهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِۗ (النحل 69:16)
اس کے پیٹ میں سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے جس کی رنگتیں مختلف ہوتی ہیں کہ اس میں لوگوں کے لیے شفا ہے

4: وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَرَحۡمَةٌ لِّلۡمُؤۡمِنِينَۙ (الإسراء 82:17 )
اور ہم قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں کہ وہ ایمان والوں کے حق میں تو شفا اور رحمت ہے

5: وَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ
(الشعراء 80:86)
اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں
(جس کے بعد شفا ہو جاتی ہے) تو وہی اللہ مجھ کو شفا
دیتا ہے۔

6: قُلۡ هُوَ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ هُدًى وَشِفَآءٌ
(حٰمٓ السجدة 41:44)
فرما دیجیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ مومنین کے لیے یہ ہدایت اورشفاء ہے

میں نے ان آیات کو لکھا اور پانی میں گھول کر بچے کو پلایا اور وہ بچہ اسی وقت شفاء پا گیا گویا کہ اس کے پاؤں سے گرہ کھول دی گئی ہو (مدارج النبوۃ)

ماخوذ از : اسوۂ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم” تالیف
ڈاکٹر محمد عبدالحی ” صاحب رحمۃ اللہ علیہ

صحیح البخاری : 5707)
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت وہ بیان کرتی ہیں:جب ہم میں سے کوئی شخص بیمار ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس(کےمتاثرہ حصے) پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے،پھر فرماتے:

“أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا
شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا”

(تکلیف کو دور کردے،اے تمام انسانوں کے پالنے والے!شفا دے،تو ہی شفا دینے والا ہے،تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں،ایسی شفا جو بیماری کوذرہ برابر باقی نہیں چھوڑتی)۔۔

صدقہ۔۔۔فضائل۔۔

صدقے کے کچھ چھو ٹے چھو ٹے طریقے

01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔

02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔

03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔

04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔

05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔

06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔

07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔

08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔

09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔

10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔

11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔

12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔

13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔

14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔

15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔

16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔

17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔

18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔

19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔

20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔

21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔

22: مسجد کی ٹوپیاں گھرلا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔

23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔

24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔

25: اس پیغام کو دوسروں کو بھیج کر صدقہ خیرات پر آمادہ کیجیئے

صدقہ احادیث کی روشنی میں

1. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

2. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

3. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

4. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

5. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

6. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

7. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

8. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

9. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

10. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

11. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

12. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

13. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

14. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

15. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

16. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]

17. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

18. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]

19. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

20. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

21. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

22. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی – کبری: 9185]

23. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی – کبری: 9185]

24. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی – کبری: 9185]

25. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی – کبری: 9185]

26. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]

27. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

28. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

29. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

30. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]

31. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری – تاریخ: 259/3]

32. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]

33. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی – شعب: 3367]

34. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی – شعب: 3368]

35. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]

36. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]

37. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

38. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

39. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]

🔰 آج جمعرات ہے یہ تمام درود پاک پڑھ لیجیے

📿📿🕋🕌📿📿
🌼 درود پڑھنے سے ثواب ملتا ہے
🌼 سلام کرنے سے جواب ملتاہے

🔵تمام عاشقانِ درود و سلام ایک بار یہ تمام درود پاک آج ضرور پڑھ لیجیے… ہمارے پیارے محمد صل اللہ وسلم بڑی شانوں والے۔۔۔۔۔

ہمارے پیارے محمد صل اللہ وسلم جہانوں والے۔۔۔۔۔

🌹❣🌹 ﴿1﴾شبِ جُمعہ کادُرُود
اَللّٰہُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِالنَّبِیِّ الْاُمِّیِّ
الْحَبِیْبِ الْعَالِی الْقَدْرِالْعَظِیْمِ الْجَاہِ وَعَلٰی اٰلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلِّمْ
بُزرگوں نے فرمایا کہ جو شَخْص ہر شبِ جُمعہ (جُمعہ اور جُمعرات کی دَرمِیانی رات) اِس دُرُود شریف کو پابندی سے کم از کم ایک مرتبہ پڑھے گا مَوْت کے وَقْت سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زِیارت کرے گا اورقَبْر میں داخل ہوتے وَقْت بھی،یہاں تک کہ وہ دیکھے گا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُسے قَبْر میں اپنے رَحْمت بھرے ہاتھوں سے اُتار رہے ہیں۔

🌹❣🌹 ﴿2﴾تمام گُناہ مُعاف
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِ نَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَسَلِّمْ
حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :جو شَخْص یہ دُرُودِ پاک پڑھے اگر کھڑا تھا تو بیٹھنے سے پہلے اور بیٹھا تھا تو کھڑے ہونے سے پہلے اُسکے گُناہ مُعاف کردیئے جائیں گے ۔

🌹❣🌹 ﴿3﴾رَحْمت کے ستّر دروازے
صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
جویہ دُرُودِ پاک پڑھتا ہے اُس پر رَحْمت کے 70 دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔

🌹❣🌹 ﴿4﴾چھ لاکھ دُرُودشریف کاثواب
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَامُحَمَّدٍعَدَدَمَافِیْ عِلْمِ اللّٰہِ صَلَاۃً دَآئِمَۃً ۢبِدَوَامِ مُلْکِ اللّٰہ
حضرت اَحْمدصاوِی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بَعْض بُزرگوں سے نَقْل کرتے ہیں: اِس دُرُود شریف کو ایک بارپڑھنے سے چھ لاکھ دُرُودشریف پڑھنے کاثواب حاصِل ہوتا ہے

🌹❣🌹 ﴿5﴾قُربِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍکَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی لَہٗ
ایک دن ایک شَخْص آیا تو حُضُورِ اَنْور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے اُسے اپنے اور صِدِّیْقِ اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے درمِیان بِٹھا لِیا۔ اِس سے صَحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو تَعَجُّب ہوا کہ یہ کون ذِی مَرتبہ ہے! جب وہ چلا گیا تو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: یہ جب مُجھ پر دُرُودِ پاک پڑھتا ہے تو یوں پڑھتا ہے ۔

🌹❣🌹(6) دُرُودِ شَفاعت
اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَنۡزِلۡہُ الۡمَقۡعَدَ الۡمُقَرَّبَ عِنۡدَکَ یَوۡمَ الۡقِیَامَۃِ
شافِعِ اُمَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ مُعَظَّم ہے:جو شَخْص یوں دُرودِ پاک پڑھے،اُس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔

🌹❣🌹 (7)ایک ہزار د ن کی نیکیاں
جَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّا ھُوَ اَھْلُہٗ
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نےفرمایا :اس کوپڑھنے والے کے لئے ستّر فِرِشتے ایک ہزار دن تک نیکیاں لکھتے ہیں۔

گویا شبِ قدرحاصل کر لی
🌺 لَآ اِلٰہَ اِلَّااللہُ الْحَلِیْمُ الْـکَرِیْمُ ،سُبحٰنَ اللہ ِ رَبِّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم
(خُدائے حَلیم وکریم کے سِوا کوئی عِبادت کے لائِق نہیں، اللہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے جو ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کاپَروردگارہے۔)

فرمانِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ :جس نے اس دُعا کو 3 مرتبہ پڑھا تو گویا اُس نے شَبِ قَدْر حاصِل کرلی۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

*🕋📿🕌☜فیضانِ درود و ایصالِ ثواب جاری رہے .انشاء اللہ عزوجل

درود پاک کے فضائل۔۔۔

🌏قرآن پاک🌎
۔۔سورت احزاب۔آیت 56۔۔میں اللہ پاک درود و سلام خوب خوب پڑھنے کا حکم دیتے ہیں۔۔

✍ حدیث پاک✍
🌸حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا
جو مجھ پہ ایک بار درود پاک پڑھے گا۔۔اللہ اس پہ دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔🌸۔
(رواہ مسلم )۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔حدیث پاک۔۔۔۔🌸
میرے اوپر جمعہ کہ دن کثرت سے درود بھیجا کرو اس لئے کہ یہ ایسا مبارک دن ھےکہ ملائکہ اس میں حاضر ھوتے ھیں اور جب کوی شخص مجھ پر درود بھیجتا ھے تو وہ درود کے فارغ ھوتے ھی مجھ پر پیش کیا جاتا ھے .
میں نے عرض کیا. یا رسول اللہﷺ آپ کے انتقال کے بعد بھی؟۔۔۔۔حضورﷺ نے فرمایا ھاں انتقال کے بعد بھی. اللہ جل شانہ نے زمین پر یہ بات حرام کر دی ھے کہ وہ انبیاء کہ بدنوں کو کھائے۔۔ پس اللہ کا نبی زندہ ھوتا ھے رزق دیا جاتا ھے 🌸
🖍راوی حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ. (فضائل درود شریف)۔۔

۔۔۔ درود پاک کی برکتیں :
درودِ پاک پڑھنا عظیم ترین سعادتوں اور بے شمار برکتوں کے حامل اور افضل ترین اعمال میں سے ایک عمل ہے، بزرگانِ دین نے درود شریف کی برکتوں کو بکثرت بیان کیا ہے اور مختلف کتابوں میں ان برکتوں کو جمع کر کے بیان کیا گیا ہے، یہاں ان میں سے کچھ برکتیں پڑھ کر اپنے دلوں کو منور کریں اور درودِ پاک کی عادت بنا کر ان برکتوں کو حاصل کریں :

(1)جو خوش نصیب رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرود بھیجتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ،فرشتے اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خود دُرود بھیجتے ہیں۔
(2)درود شریف خطاؤں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
(3)درود شریف سے اعمال پاکیزہ ہو جاتے ہیں۔
(4)درود شریف سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
(5)گناہوں کی مغفرت کر دی جاتی ہے۔
(6)درود بھیجنے والے کے لئے درود خود اِستغفار کرتا ہے۔
(7)اس کے نامۂ اعمال میں اجر کا ایک قیراط لکھا جاتا ہے جواُحد پہاڑ کی مثل ہوتا ہے۔
(8)درود پڑھنے والے کو اجر کا پورا پورا پیمانہ ملے گا۔
(9)درود شریف اس شخص کے لئے دنیا و آخرت کے تمام اُمور کیلئے کافی ہو جائے گا جو اپنے وظائف کا تمام وقت درود پاک پڑھنے میں بسر کرتا ہو۔ (10)مَصائب سے نجات مل جاتی ہے۔
(11)اس کے درود پاک کی حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گواہی دیں گے۔ (12)اس کے لئے شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔
(13)درود شریف سے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی رحمت حاصل ہوتی ہے۔
(14) اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے امن ملتا ہے۔
(15)عرش کے سایہ کے نیچے جگہ ملے گی۔
(16)میزان میں نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو گا۔
(17)حوضِ کوثر پر حاضری کا موقع مُیَسّر آئے گا۔
(18)قیامت کی پیاس سے محفوظ ہو جائے گا۔
(19)جہنم کی آگ سے چھٹکارا پائے گا۔
(20) پل صراط پر چلنا آسان ہو گا۔
(21)مرنے سے پہلے جنت کی منزل دیکھ لے گا۔
(22)جنت میں کثیر بیویاں ملیں گی۔
(23) درود شریف پڑھنے والے کو بیس غزوات سے بھی زیادہ ثواب ملے گا۔
(24) درود شریف تنگدست کے حق میں صدقہ کے قائم مقام ہوگا۔
(25)یہ سراپا پاکیزگی و طہارت ہے۔
(26) درود کے وِرد سے مال میں برکت ہوتی ہے۔
(27)اس کی وجہ سے سو بلکہ اس سے بھی زیادہ حاجات پوری ہوتی ہیں ۔
(28)یہ ایک عبادت ہے۔
(29) درود شریف اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اعمال میں سے ہے۔
(30)درود شریف مجالس کی زینت ہے۔
(31)درود شریف سے غربت و فقر دور ہوتا ہے۔
(32)زندگی کی تنگی دور ہو جاتی ہے۔
(33)اس کے ذریعے خیر کے مقام تلاش کئے جاتے ہیں۔
(34)درود پاک پڑھنے والا قیامت کے دن تمام لوگوں سے زیادہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریب ہو گا۔
(35)درود شریف سے درود پڑھنے والا خود،اس کے بیٹے پوتے نفع پائیں گے۔ (36)وہ بھی نفع حاصل کرے گا جس کو درود پاک کا ثواب پہنچایا گیا۔
(37)اللہ تعالیٰ اوراس کے رسولِ مُکَرَّم کا قرب نصیب ہو گا۔
(38)یہ درود ایک نور ہے،اس کے ذریعے دشمنوں پر فتح حاصل کی جاتی ہے۔ (39)نفاق اور زنگ سے دل پاک ہوجاتا ہے۔
(40)درود شریف پڑھنے والے سے لوگ محبت کرتے ہیں ۔
(41)خواب میں حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زیارت ہوتی ہے۔(42)درود شریف پڑھنے والا لوگوں کی غیبت سے محفوظ رہتا ہے۔
(43) درود شریف تمام اَعمال سے زیادہ برکت والا اور افضل عمل ہے۔
(44)درود شریف دین و دنیا میں زیادہ نفع بخش ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بکثرت درود پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

(صراط الجنان،جلد 6،ص 82،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

السلام علیکم ورحمته الله وبرکاته
صبح شام کے ازکار
……………………..
، اِن شاء اللہ انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی، وہ دُعا یہ ہے
:
لَا الٰه الّا الله مُحمَّدُ الرَّسُول الله – بِسْمِ الله علیٰ نفْسِی و دِینیْ – بسم الله علیٰ اَهْلی و مالِیْ و وَلَدِیْ – بسم الله علیٰ ما اَعْطَانِیَ الله – الله ُرَبِّی لا اُشْرِکُ بِهِ شَيْئاً – الله ُاکبر الله ُاکبر الله ُاکبر و اَعَزُّ و اَجَلُّ و اَعْظَمُ ممِاَّ اَخَافُ و اَحْذَرُ عَزَّ جَارُک و جَلَّ ثَنَاؤُک ولا اله غَیْرُک – اللهم اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِی و مِن شَرِّ کُلِّ شَیْطَانِ مَّرِیْدِ و مِن شَرِّ کُلِّ جَبَّارِ عَنِیْدِ
فَاِن تَوَلَّوْا فَقُل حَسْبِی الله لا اله الا هو عَلَیهِ تَوَکَّلْتُ وهو ربُّ العَرْشِ العَظِیمْ – اِنَّ وَلِیَّ ىَ الله الَّذِی نَزَّلَ الْکِتَابَ و هو یَتَولَّ الصَّالحِین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ
لاَ شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ. رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِيْ هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيْ هَذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوْءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ*
……………………..

اَللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوْتُ وَإِلَيْكَ النُّشُوْرُ
………………,…….

اَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّيْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِيْ وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوْءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوْءُ بِذَنْبِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ
……………………..

اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَدَنِيْ، اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ سَمْعِيْ، اَللَّهُمَّ عَافِنِيْ فِيْ بَصَرِيْ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ، اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ(3)
…………………….

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْللِي، وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي، وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ، وَمِنْ خَلْفِي، وَعَنْ يَمِينِي، وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِ
…..,……

اَللَّهُمَّ عَالِـمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَاْلأَرْضِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيْكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوْذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِيْ سُوْءًا أَوْ أَجُرُّهُ إِلَى مُسْلِمٍ
……………………………….

بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ(3)
………..

رَضِيْتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِاْلإِسْلاَمِ دِيْنًا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيًّا(3)
………………………..

يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ، أَصْلِحْ لِيْ شَأْنِيْ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِيْ إِلَى نَفْسِيْ طَرْفَةَ عَيْنٍ
..,.,……………

أَصْبَحْنَا عَلَى فِطْرَةِ اْلإِسْلاَمِ وَعَلَى كَلِمَةِ اْلإِخْلاَصِ، وَعَلَى دِيْنِ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَلَى مِلَّةِ أَبِيْنَا إِبْرَاهِيْمَ، حَنِيْفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ
…..,………………

سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ(3)

اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا طَيِّبًا، وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً

لاَ إِلَـهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُ(100)

سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ(100).

أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوْبُ إِلَيْهِ(100)

*(حَسْبِيَ اللَّهُ لاَ اِلَهَ إِلاَّ هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ).. 7مرات

………………قرآنی دعاؤں کا اِنتخاب ……
۔
یہ وہ دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نےان کو نہ صرف قبول کیا بلکہ پسند کیا اور اپنی کتاب مبین میں ان کا ذکر کرکے سب کو سکھایا کہ اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو یوں مانگو جیسے اس سے پہلے لوگوں نے مانگا اور اللہ تعالیٰ جی نے انہیں عطا کیا۔
۔
…برکت کے لیے ….

رَّبِّ اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ (سورۃ المومنون: 29)
“اے میرے رب! تو مجھے بابرکت اتارنا اور تو سب سے بہتر اُتارنے والا ہے۔”
رَبِّ اِنِّىْ لِمَآ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ
“اے میرے رب! بے شک تو میری طرف جو بھی نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔” ۔
۔

..شکر گزاری کے لیے ..

رَبِّ اَوْزِعْنِيْٓ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰي وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَاَدْخِلْنِيْ بِرَحْمَتِكَ فِيْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِيْنَ (سورۃ النمل: 19)
“اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ میری تیری اس نعمت کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر انعام کی ہے، اور اس بات کی بھی کہ میں ایسے نیک کام کروں جو تو پسند کرے، اور مجھے اپنی رحمت سےاپنے نیک بندوں میں داخل کر۔” ۔
۔
..
…توبہ کے لیے …

رَبِّ اِنِّىْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاغْفِرْ لِيْ فَغَفَرَ لَهٗ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ (سورۃ القصص: 16)
“اے میرے رب! بےشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، لہٰذا تو میری مغفرت فرما، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے بخش دیا، بلاشبہ بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔” ۔
۔
..وسوسوں سے نجات کے لیے ….

رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِ وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ(سورۃ المومنون: 97-98)
“اے میرے رب! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے میرے رب! میں (اس سے بھی) تیری
پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں۔”

…….
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا وَسُبْحَانَ اللَّهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ” …..
………….
الـلَّهُـمَّ طَہِّرْ قَلْبِيْ مِنَ النِفَاقِ, وَعَمَلِيْ مِنَ الرِّيَآءِ, وَلِسَانِيْ مِنَ
الْکَذِبِ, وَعَيْنِيْ مِنَ الْخِيَانَہِ, فَاِنَّکَ تَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْيُنِ وَمَا
تُخْفِي الصُّدُوْرِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
دعاءِ مستجاب؟؟؟؟
اللہ ج۔ج مین یقین رکھکر دعا مانگین۔۔

اس دعا کے یہ فائدے ہیں۔ جو شخص ہر دن اس دعا کو پڑھے گا٬ اگر روزانہ نہ پڑھ سکے تو ہفتے میں ایک مرتبہ پڑھے٬ اگر ہفتے میں بھی نہ پڑھے تو مہینے میں ایک مرتبہ پڑھے اگرمہینے٬سال میں بھی نہ پڑھ سکے تو پوری عمر میں ایک مرتبہ پڑھے٬ اگر خود نہ پڑھ سکے تو دوسرے سے پڑھا کر سنے۔ اللہ تعالیٰ اس بندے کے لئے دوزخ کے دروازے بند کردے گا اور جنت کے دروازے کھول دے گا اور جو شخص اس دعا کو پڑھ کر الله تعالیٰ سے ضرورت مانگے گا الله تعاليٰ اس کو عنايت فرمائے گا اور سات چیزوں سے اس کی حفاظت فرمائے گا۔
(1) فقیری سے (2) دنيا کی تکلیفوں سے (3) روح قبض ہونے کی تکلیف سے (4) قبر کے عذاب سے (5) منکر نکیر کے سوالوں سے (6) قيامت کے سختی سے (7) دوزخ کے عذاب سے۔
اور اللہ تعالیٰ جنت میں اس کو اپنا دیدار کرائے گا اور اس بندے کو اللہ تعالیٰ مکاروں کے مکر سے اور چغل خوروں کی چغلی سے اور نیزوں کے زخم اور ظالم کے ظلم سے اور شیطانوں کی شرارت سے اور سانپ بچھوں کی آفت اور بجلی کی سختی سے اور دونوں جہاں کی ستر ہزار مصیبتوں سے محفوظ رکھے گا اور اس کے اعمال نامے میں ایک ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔
انسان کے بدن میں ستر ہزار تکلیفیں ہیں جو آدمی اس دعا کو پڑھے گا تو تکلیفوں سے محفوظ رہے گا جیسے سر میں درد٬ آنکھوں کی تکلیف٬ دانتون میں درد، سینے کا درد ٬ قمر کا درد٬ گھٹنوں کا درد ، ہڈیوں کا درد ، زہر کا درد ، اس کے علاوہ ہر قسم کی درد اور تکلیفوں سے محفوظ رہے گا۔

سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظَيْمِ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الْمُصَوِّرُ الْحَكِیْمُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الْبَصِیْرُ الصَّادِقُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الْمُبْدِیءُ الْمُعِیْدُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الصَّمَدُ الْمَعْبُوْدُ
سُبْحٰنَکَ اَنْتَ اللهُ لَآاِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ الْوَاجِدُ الْمَاجِدُ
………….
یا واجد یا ماجد لا تزل عنی نعمتہ انعمتہا علی
,………..
🌹🌺
دعا۔۔۔۔
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لاَ أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیری سزا سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب سے، میں تیری تعریف کما حقہ نہیں کر سکتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے ۔
سنن ابن ماجہ جلد ٣ حدیث ٧٢٢ صحیح 🌺🌹🌸🕋
اللهم يا فارج الهم، وكاشف الغم ومجيب دعوة المضطرين، يا رحمن الدنيا ورحيم الاخرة، صل على محمد وآل محمد، وارحمني رحمة تطفئ بها عني غضبك وسخطك، وتغنيني بها عن رحمة من سواك.
….,….
يا مذلّ كل جبار عنيد، ومعز كل ذليل، قدوحقك بلغ المجهود مني في أمر كذا ففرج عني
……………………….
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ، اِبْنُ عَبْدِکَ، اِبْنُ اَمَتِکَ، نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، اَسْاَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ، سَمَّیْتَ بِهِ نَفْسَکَ اَوْ عَلَّمْتَهُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ اَوْ اَنْزَلْتَهُ فِیْ کِتَابِکَ اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ۔
🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻
اللهم إني أسألكـ
الجنة الفردوس
و اعوذبك من النار
۳ مرات
🌿
جس نے سبحان اللہ وبحمدہ
دن میں 💯 مرتبہ کہا اس کےگناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں،خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ۔ صحيح بخارى
اس دعا کو یاد کر لیجۓ ✨
حفاظت کی دعا
أَعُوذُ بِوَجْهِ اللَّهِ الْعَظِيمِ،
الَّذِي لَيْسَ شَيْءٌ أَعْظَمَ مِنْهُ،
وَبِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ،الَّتِي لاَ يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلاَ فَاجِرٌ،
وَبِأَسْمَاءِ اللَّهِ الْحُسْنَى كُلِّهَا,
مَا عَلِمْتُ مِنْهَا وَمَا لَمْ أَعْلَمْ،
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَبَرَأَ وَذَرَأَ. .
مشکاة المصابیح
………….,…………
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حادثات : دکان /مکان میں آگ لگنے سے بچنے کا وظیفہ
حضرت طلق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابوالدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ کا مکان جل گیا٬ فرمایا نہیں جلا٬ پھر دوسرے شخص نے یہی اطلاع دی تو فرمایا نہیں جلا٬ پھر تیسرے آدمی نے یہی خبر دی٬ آپ نے فرمایا نہیں جلا٬ پھر ایک اور شخص نے آکر کہا اے ابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! آگ کے شرارے بہت بلند ہوئے مگر جب آپ کے مکان تک آگ پہنچی تو بجھ گئی٬ فرمایا مجھے معلوم تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرے گا کہ میرا مکان جل جائےکیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھ لے شام تک اس کو کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی٬ میں نے صبح یہ کلمات پڑھے تھے اس لئے مجھے یقین تھا کہ میرا مکان نہیں جل سکتا٬ وہ کلمات یہ ہیں۔ (کنزالعمال ٬ حدیث: ۴۹۶۰ ٬ صفحہ : ۲۳۸)
اَللّھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ۔ مَاشَاءَاللہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ ِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْر ٌ وَّاَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا ۝ اللّھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ دَآ بَّۃٍ ٬اَنْتَ اٰخِذٌ م بِنَاصِیَتِھَا اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۝

حسبي الله ونعم الوكيل
=حسبي الرب من العباد.
=حسبي الله الذي هو حسبي.
=حسبي الخالق من المخلوقين.
=حسبي الرازق من المرزوقين.
=حسبي الله ونعم الوكيل من كل سوء.
=حسبي الله ونعم الوكيل لما أهمني.
=حسبي الله ونعم الوكيل لمن بغى علي.
=حسبي الله ونعم الوكيل لمن حسدني.
=حسبي الله ونعم الوكيل عند الموت.
=حسبي الله ونعم الوكيل عند الصراط.
=حسبي الله الذي بيده ملكوت كل شيء وهو يجير ولا يجار عليه، لا إله إلا هو وهو رب العرش العظيم.
……….,……………………………..
###################

صلوٰة التاج(درود تاج
………………………………………..
۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

💥 صلوٰة التاج……
(درود تاج)💥
………………………………………..
🌻💥💥💥💥💥
اَلَّلهُمَّ صَلِّ عَلَى
سيدّنا مُحَمَّد صَِاحِبِ التَّاج وَاْلمِعْرَاجِ وَاْلبُرَاقِ وَاْلعَلَم دَافِعِ اْلبَلَاءِ وَاْلوَبَاءِ وَالْقَحْط ِ وَاْلمَرَضِ وَاْلاَلَمَ اِسْمُهُ مَكْتُوبٌ مَرْفُوعٌ مَشْفُوع ٌ
مَنْقُوشٌ فِي الَّلوْحِ وَاْلقَلَمِ سَيِّدِ اْلعَرَبِ وَاْلعَجَمِ جِسْمُهُ مُقَدَّسٌ مُعَطَّرٌ مُطَهَّرٌ فِي اْلبَيْتِ وَاْلحَرَمِ شَمْسِ الضُّحَى بَدْرِ الدُّجَى صَدْرِ اْلعُلَى نُورِ اْلهُدَى كَهْفِ اْلوَرَى مِصْبَاحِ الظُّلَمِ جَمِيلِ الشِّيَمِ شَفِيعِ اْلاُمَمِ صَاحِبِ اُْلجُودِ وَالْكَرَِمِ اَللهُ عَاصِمُهُ وَجِبْرِيلُ خَادِمُهُ وَالْبُرَاقُ مَرْكَبُهُ وَاْلمِعْرَاجُ سَفَرُهُ وَسِدْرَةُ اْلمُنْتَهَى مَقَامُه وَقَابَ قَوْسَيْنِ مَطْلُوبُهُ وَاْلمَطْلُوبُ مَقْصُودُه وَاْلمَقْصُودُ مَوْجُودُهُ سَيِّدِ اْلمُرْسَلِينَ خَاتِمِ النَّبِيِّينَ شَفِيعِ اْلمُذْنِبِينَ أَنِيسِ اْلغَرِيبِينَ رَحْمَةٍ لِلْعَالَمِينَ رَاحَةِ اْلعَاشِقِينَ مُرَادِ اْلمُشْتَاقِينَ شَمْسِ اْلعَارِفِين سِرَاجِ السَّالِكِينَ مِصْبَاحِ اْلمُقَرَّبِينَ مُحِبِّ اْلفُقَرَاءِ وَاْلغُرَبَاءِ وَالْمَسَاكِينِ سَيِّدِ الثَّقَلَيْنِ نَبِيِّ اْلحَرَمَيْنِ اِمَامِ اْلقِبْلَتَيْن وَسِيلَتِنَا فِي الدَّارَيْنِ صَاحِبِ قَابَ قَوْسَيْن مَحْبُوبِ رَبِّ اْلمَشْرِقَيْنِ وَاْلمَغْرِبَيْن جَدِّ اْلحَسَنِ وَاْلحُسَيْنِ مَوْلَانَا وَمَوْلَى الثَّقَلَيْنِ أَبِي اْلقَاسِمِ سَيِّدِنَا مُحَمَّدِِ بْنِ عَبْدِ اللهِ نُورٍ مِنْ نُورِ اللهِ يَا أَيُّهَا اْلمُشْتَاقُونَ بِنُورِ جَمَالِه صَلّوُا عَلَيْهِ وَآلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔۔💥💥
##############$###################

….اذکار استغفار🌟💫

🌺✨Istaghfaar # 1

‎اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَاْتُ وَ مَا تَعَمَّدْتُّ وَ مَا اَسْرَرْتُ وَ مَا اَعْلَنْتُ وَ مَا جَھِلْتُ وَ مَا تَعَمَّدْتُّ۔

🌸✨Istighfaar # 2 ( 100 times a day)

‎رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔

🌷✨Istighfaar # 3

‎اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ وَ یَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَ بَارِکْ لِیْ فِیْ رِزْقِیْ۔

🌼✨Istighfaar # 4 Specially for Kabira sins

‎اَسْتَغْفِرُ اللهَ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ۔

🌹✨Istighfaar # 5

‎اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ یَا اَللهُ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْ وَ لَمْ یَکُنْ لَّهُ کُفُوًا اَحَدٌ، اَنْ تَغْفِرَلِیْ ذُنُوْبِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔

🌻✨Istighfaar # 6 ( In Tashahud also)

‎اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِیْرًا وَّ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ
‎فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَةً مِّنْ عِنْدِکَ وَ ارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔

💐✨Istighfaar # 7

‎اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ وَ جَھْلِیْ وَ اِسْرَافِیْ فِیْ اَمْرِیْ وَ مَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّیْ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ھَزْلِیْ وَ جِدِّیْ وَ خَطَئِیْ وَ عَمْدِیْ وَ کُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ۔

🌳✨Istighfaar # 8

‎سُبْحَانَکَ وَ بِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ۔

🌼✨Istighfaar # 9 ( Memorize and recite in Sajdah also)

‎اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ کُلَّهُ دِقَّهُ وَ جِلَّهُ وَ اَوَّلَهُ وَ آخِرَهُ وَ عَلَانِیَتَهُ وَسِرَّهُ۔

🌲✨Istighfaar # 10

‎اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۔

🌿✨Istaghfaar # 11 ( slightly different from #4) for asking forgiveness from Kabira Sins

‎اَسْتَغْفِرُ اللهَ الَّذِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْهِ۔

🍄✨Istighfaar # 12

‎ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ وَ ارْحَمْنِیْ وَ اھْدِنِیْ وَ ارْزُقْنِیْ۔

🍀✨Istighfaar # 13 ( Also in Rukhu and Sajood)

‎سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَ بِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔

🌳✨Istighfaar # 14 ( Also in Tashahud)

‎اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَ مَا اَخَّرْتُ وَ مَا اَسْرَرْتُ وَ مَا اَعْلَنْتُ وَ مَا اَسْرَفْتُ وَ مَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِهِ مِنِّیْ، اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَ اَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ۔

🍃✨Istighfaar # 15 ( in gathering 100 times)

‎رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ۔

🌷✨Istighfaar # 16 ( end of Gathering)

‎سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ، اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ، اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ۔

🍁✨Istighfaar # 17 ( The leader of Istaghfaar )

‎اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَ اَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ۔

🌾✨Istighfaar # 18 ( better than collecting gold and silver )

‎اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْاَمْرِ، وَ الْعَزِیْمَةَ عَلَی الرُّشْدِ، وَ اَسْاَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ، وَ عَزَآئِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَ اَسْاَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَ اَسْاَلُکَ قَلْباً سَلِیْماً، وَ لِسَاناً صَادِقاً، وَ اَساَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ، وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَ اَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ۔

🌾✨Istighfaar # 19 ( To invoke Allah’s Rahmah)

‎اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ۔

۔۔۔پڑوسی کے حقوق۔۔۔۔

۔۔۔۔ اس دنیا کا ہر انسان ایک دوسرے کی مدد کا محتاج اور ایک دوسرے کی نصرت وحمایت پر ہے۔

ایک حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے تین مرتبہ قسم کھاکر فرمایا خدا کی قسم وہ موٴمن نہیں خدا کی قسم وہ مومن نہیں خدا کی قسم وہ موٴمن نہیں۔ صحابہ نے دریافت کیا کون یا رسول اللہ تو آپ نے فرمایا کہ جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں۔ (مسلم)

یعنی کوئی پڑوسی کہیں دوسرے ہمسائے کے لیئے اپنے کسی فعل کی وجہ سےرکاوٹ اور تکلیف کا باعث تو نہیں۔

کوئی پڑوسی کہیں دوسرے ہمسائے کے اندرونی تانک جھانک میں تو نہیں لگا رہتا۔

کوئی پڑوسی کہیں اپنے گھر کے باہر دوستوں کے ساتھ ڈیرہ لگا کر بیٹھا رہتا ہو تودوسرے ہمسائے کے لیئے گھر سے نکلنا دشواری کا سبب بنے اور با پردہ خواتین کا گھر سے نکلنا دشواری ہوتا ہو اور تکلیف کا سبب بنے۔۔اس حالت میں یہ ڈیرہ بیٹھنا گناہ کبیرہ بھی اور نبی کریم صل اللہ وسلم کے فرامین کے مطابق ایمان سے دوری کا سبب نہ بن جائیے۔اور کل قیامت میں دوسرا تکلیف پانے والا ہمسایہ اس جھرمٹ بنانے والے ہمسائے کو اللہ پاک کی عدالت میں کھڑا کرکے عذاب کا سبب نہ کہیں بن جایئے۔۔ایسی کثرت والی صورت میں جب ہمساے کےدوستوں کے ڈیرہ کی وجہ سے دوسرے ہمسائے کی با پردہ خواتین کو گھر سے نکلنے کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہو جو تکلیف دہ کام ہے تو اللہ کا عذاب اور قہر اس ڈیرہ والے ہمسائے پر
کسی بھی وقت آسکتا ہے۔۔ویسے ایسے ڈیرے گلی محلوں میں لگانا انتہائ غیر اخلاقی حرکت ہے جو کہ بازاروں میں لگتے ہیں۔۔میدانوں میں لگتے ہیں۔محلوں میں نہیں لگتے۔۔

کہیں کوئ ہمسایہ اپنے کسی سامان یا کار یا بائیک دوسرے ہمسائے کی جگہ رکھ کر یا پارک کرکے اس ہمسائے کی دل آزاری کرکے یا حقوق تلفی کرکے گناہ کمیٹی میں اپنا حصہ ڈال کر اللہ پاک کے قہر کو تو آواز نہیں دے رہا۔
یعنی اپنی کار یا اپنے گیسٹ کی کار کو بھی اپنی جگہ میں پارک کرنا چاہئے تاکہ دوسرے ہمسائے کی روزمرہ عملیات متاثر نہ ہو۔اور کہیں دوسرا ہمسایہ آپکی کار یا آپ کے گیسٹ کی کار کی غلط پارکنگ وجہ سے تکلیف میں نہ آ جائے ۔

۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اپنی تعلیمات و ہدایات میں ہمسائیگی اور پڑوس کے اس تعلق کو بڑی عظمت بخشی ہے اور اس کے احترام و رعایت کی بڑی تاکید فرمائی ہے کہ اس کو جزو ایمان اور داخلہٴ جنت کی شرط اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کا معیار قرار دیا ہے۔

حبیب کبریا صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مَازَالَ جِبْرِیْلُ یُوْصِیْنِی بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ اَنَّہ سَیُوَرِّثُہ “(بخاری ومسلم) کہ جبریل امین ہمیشہ مجھے پڑوسی کی رعایت و امداد کی اس قدر تاکید کرتے رہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسیوں کو بھی رشتہ داروں کی طرح وراثت میں شریک کردیا جائے گا پڑوسیوں کے ساتھ حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا اور اچھا رویہ پیش کرنا اللہ اوراس کے رسول کی محبت کی شرط اور اس کا معیار قرار دیاگیا ۔

حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ایک دن نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے وضوء فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین نے آپ کے وضوء کا پانی لے کر اپنے بدن اور چہرے وغیرہ پر ملنے لگے جب سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس عمل پر تمھیں کون سی چیز آمادہ و برانگیختہ کررہی ہے تو ایسا کیوں کررہے ہو تو صحابہ کرام کا جواب تھا کہ بس اللہ اور اس کے رسول کی محبت تب آپ نے ارشاد فرمایا سنو جو شخص یہ پسند کرتا ہو اور جس کی یہ خواہش ہو کہ اس سے اللہ اور اس کے رسول کی محبت نصیب ہوجائے یا یہ کہ اللہ و رسول کو اس سے محبت ہوتو اسے تین باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے: جب بات کرے تو سچ بولے جب کوئی امانت اس کے پاس رکھی جائے توامانت داری کے ساتھ اس کو ادا کرے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)

ایک موقع پر سرکار دوعالم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے لازم ہے کہ اپنے پڑوسی کے ساتھ اکرام کا معاملہ کرے۔

ترمذی اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کسی محلے کے لوگوں میں اللہ کے نزدیک سب سے افضل اور بہتر وہ شخص ہے جو اپنے پڑوسیوں کے حق میں بہتر ہو۔

کسی شخص کا نیکوکار یا بدکار ہونا اس کے پڑوسی کی گواہی کے ذریعہ معلوم ہوگا۔

ایک شخص نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنی نیکوکاری و بدکاری کو کس طرح معلوم کرسکتاہوں؟ حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جب تم کسی کام کے بارے میں اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو تم نے اچھا کام کیا تو تمہارا کام اچھا ہے، اور جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے برا کیا ہے تو تمہارا وہ کام برا ہے۔ (ابن ماجہ)

برا کہے جسے عالَم اسے برا سمجھو

زبان خلق کو نقارئہ خدا سمجھو

ظاہر ہے کہ ان ارشادات وواقعات کا مقصد صرف واقعہ کا بیان نہیں بلکہ پڑوسیوں کے حقوق کی اہمیت کے اظہار کے لیے یہ نہایت موٴثر اور بلیغ ترین عنوانات ہیں جن کا مدعا اور پیغام یہی ہے کہ اہل ایمان کے لیے لازم ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ ان کا برتاؤ اور رویہ شریفانہ رہے کہ ان کی طرف سے بالکل مطمئن اور بے خوف و خطر رہیں، دل ودماغ کے کسی گوشے میں بھی ان کے بارے میں کوئی اندیشہ کسی طرح کی کوئی فکر دامن گیر نہ رہے۔

اگر کسی مسلمان کا یہ حال نہیں ہے اس کے پڑوسی اس سے بے خوف اور مطمئن نہیں ہیں تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے ایمان کا مقام نصیب نہیں ہے ”لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لاَ یَأمَنُ جَارُہ بَوَائقَہ “ جنت میں اس شخص کا داخلہ ممنوع ہے جس کی شرارتوں اور ایذاء رسانیوں سے اس کے پڑوسی مامون نہ ہوں۔ (مسلم شریف)
۔

پڑوسیوں سے محبت و تعلقات کی استواری کا بہترین ذریعہ باہم ہدیوں و تحفوں کا لین دین ہے ، سرکارِ دوعالم صلى الله عليه وسلم خود اپنی بیوی کو اس کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔ اسی بناء پر ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرے دو پڑوسی ہیں میں ان میں سے کس کو پہلے یا زیادہ ہدیہ بھیجوں آپ نے فرمایا جس کا دروازہ تمہارے دروازے سے زیادہ قریب ہو۔ (مشکوٰة)

ایک ”توکل“ پیشہ صحابی حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا جب تم سالن بناؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو اور اپنے ہمسایوں کی خبر گیری کرو، یعنی صرف اپنی لذت کے پیش نظر سالن نہ بناؤ بلکہ ضرورت مند ہمسایوں کا بھی خیال رکھو اور ان کے گھر بھی سالن بھیجو۔

ہمسائیگی ۔ ہمسائیگی کے تعلق کو مستحکم و خوشگوار رکھنے کے لیے پڑوسیوں کے درمیان کچھ نہ کچھ صدقہ و تحفہ دینے لینے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور اس کے لیے بڑی اور اعلیٰ چیزوں کو مد نظر نہ رکھنا چاہیے بلکہ کوئی تھوڑی وقلیل چیز ہوتو اس کو دینے لینے میں حقارت محسوس نہ کرے حضور صلى الله عليه وسلم نے عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اے مسلمان عورتوں کوئی ہمسائی اپنے ہمسائی کے لیے ہدیہ و صدقہ حقیر نہ سمجھے اگرچہ بکری کا ایک کھڑہی ہو (بخاری ومسلم)

ایک مسلمان کی مروت و شرافت کا یہ تقاضہ نہیں کہ خود راحت اور عیش و آرام سے زندگی بسر کرے اور اپنے ہمسائے کے رنج و تکلیف اور گھریلو ضروریات کی پرواہ نہ کرے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ارشاد کے مطابق موٴمن وہ نہیں جو خودشکم سیرہو اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے اور وہ اس کے بھوکے ہونے سے باخبر بھی ہو ۔ (رواہ البزار والطبرانی فی الکبیر)

پیغمبر اسلام کی زبان حکمت کی ان تعلیم و ہدایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کا کیا مقام و مرتبہ ہے مگرافسوس کہ محبت رسول کا دم بھرنے والے ہم مسلمانوں کی زندگی و طرز عمل اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ارشادات میں اتنا بعد ہوگیا کہ کسی نا آشنا کو اس بات کا یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ تعلیم و ہدایت مسلمانوں کے پیغمبر کی ہوسکتی ہے۔

غور کیجیے کہ سرکار دو عالم صلى الله عليه وسلم کے ان مبارک ارشادات میں اپنے ہمسایوں کے بھوک و پیاس کے مسئلوں سے بے پرواہ اور ان کی دیگر ضروریات سے بے فکر ہوکر زندگی گزارنے والوں کے لیے کتنی سخت وعید سنائی ہے لیکن افسوس کہ اس طرح کی حدیثیں ہمارے علمی و درسی حلقوں میں اب کلامی بحثوں اور علمی موشگافیوں کے اندرہوکر رہ جاتی ہیں۔ اگر ان حدیثوں کو پڑھ یا سن کر حیات انسانی کے ان تشنہ شعبوں کو درست کرنے کی فکر دامن گیر ہوجائے تو انشاء اللہ ضرور وہ خوش گوار و پرسکون معاشرہ تشکیل پائے گا دنیا کو جس معاشرے کی تلاش ہے ورنہ۔

لطف تو جب ہے کہ کردار بھی کروٹ بدلے

ورنہ جذبے تو لیا کرتے ہیں انگڑائی بہت

طبرانی کی معجم کبیر میں حضرت معاویہ رضى الله تعالى عنه بن حیدہ رضی اللہ عنہ کی ایک روایت ہے جس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پڑوسیوں کے حقوق کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ پڑوسی کا تم پر یہ حق ہے کہ اگر پڑوسی کسی بیماری میں مبتلاء ہوجائے تو اس کی عیادت و خبر گیری کرو، اگر اس کا انتقال ہوجائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرو اوراگر کسی ضرورت وغیرہ سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو اور اگر کوئی برا کام کربیٹھے تو پردہ پوشی کرو اور اگر اس کو کوئی نعمت ملے تو مبارک باد دو اور اگر کسی مصیبت کا شکار ہوجائے تو تعزیت کرو اور اپنی عمارت کو اس کی عمارت سے اس قدر بلند نہ کرو کہ اس کے گھر کی ہوا بند ہوجائے اور تمہارے ہانڈی کی مہک اس کے لیے تکلیف کا باعث ہو اوراس میں سے تھوڑا سا کچھ سالن اس کے گھر بھی بھیج دو یعنی اگر گھر میں کوئی لزیز وخوش ذائقہ چیز بنے اس صورت میں یا تو اس کے گھر بھی کچھ سالن پہنچاؤ یا پھر اس کی خوشبو پڑوس کے گھر تک نہ جائے۔

غور وفکر کا دائرہ وسیع کیجیے اور دل و دماغ کے دریچے وا کیجیے کہ کتنے لطیف پیرائے میں پڑوس میں بسنے والے انسانوں کو متنبہ کیا ہے، کہ گھر کی دیوار اتنا بلند کرنا جو ہمسائے کی ہوا کو روکنے کا سبب بن جائے، اور گھرمیں پکنے والی مرغوب چیز کی مہک نہ جانے پائے کہ اس وجہ سے پھول جیسے ناسمجھ بچوں کے دل میں اس کی طمع ولالچ پیداہوگی جو ان کے لیے باعث تکلیف ہے یا پھر ان کے گھر بھی پہنچانے کا اہتمام کیاجائے۔

مذہب اسلام کے اس اصولی نقطئہ نظر سے بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اسلام نے پڑوسیوں کے بارے میں کتنے نازک و باریک پہلوؤں کی رعایت کو بھی ملحوظ رکھ کر اس کو ضروری قرار دیا۔

امام غزالی علیہ الرحمة نے احیاء العلوم کے اندر ایک عجیب و غریب واقعہ ذکر کیا ہے کہ کسی کے گھر میں چوہوں کی کثرت ہوگئی تو کسی نے بلی پالنے کا مشورہ دیا کہ اس طرح چوہے تمہارے گھر سے فرار ہوجائیں گے توگھر والے نے کہا کہ ”مجھے اس بات کا خطرہ ہے کہ بلی کی آواز سن کر چوہے میرے گھر سے نکل کر میرے پڑوس کے گھر میں چلے جائیں گے اور میں جو چیز اپنے لیے پسند نہیں کرتا وہی چیز اپنے پڑوسی کے لیے پسند کرنے لگوں؟ یہ موٴمن کی شان کے خلاف ہے۔

کہنے کو تو یہ مختصر سی بات ہے لیکن اس پر عمل کی توفیق اس وقت تک میسر نہیں آسکتی جب تک کہ انسان کا ایمان کامل نہ ہوجائے یہ صفت انسانی کمال کی ایک معراج ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا نفس پورے طور پر مدارجِ تہذیب طے کرچکا۔

* * *

——————————-

ماهنامه دارالعلوم ، شماره 04 ، جلد: 93 ربيع الثانى 1430 ھ مطابق اپریل 2009ء

💥..❀تفسیرِ مبارکہ کے موضوعات❀..💥*
——————————————————————
1… ذکر کی اقسام اور اسکے فضائل:
2… شکر کی تعریف اور اسکے فضائل:
3… ناشکری کی مذمت:
——————————————————————
◉…❁✾ “بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ” ✾❁…◉
——————————————————————

🌹👈 فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ (۱۵۲)

🌱👈 تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ وَ تَفْسِیْر صِرَاطُ الْجِنَانْ شَرِیْفْ:

تو تم مجھے یاد کرو ، میں تمہیں یاد کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔

🌸👈 {فَاذْكُرُوْنِیْ: تو تم میری یاد کرو۔}

کائنات کی سب سے بڑی نعمت حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر کرنے کے بعد اب ذکر ِ الہٰی اور نعمت الہٰی پر شکر کرنے کا فرمایا جارہا ہے۔

🎋👈 ذکر کی ا قسام:

ذکر تین طرح کا ہوتا ہے:

(1)… زبانی ۔
(2)… قلبی۔
(3)… اعضاء ِبدن کے ساتھ ۔

زبانی ذکر میں تسبیح و تقدیس، حمدوثناء، توبہ واستغفار، خطبہ و دعا اور نیکی کی دعوت وغیرہ شامل ہیں۔

❗قلبی ذکر میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرنا، اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی عظیم قدرت کے دلائل میں غور کرنا داخل ہے نیز علماء کاشرعی مسائل میں غور کرنا بھی اسی میں داخل ہے۔

🍁👈 اعضاء ِبدن کے ذکر سے مراد ہے کہ اپنے اعضاء سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے بلکہ اعضاء کو اطاعتِ الہٰی کے کاموں میں استعمال کیا جائے۔

(صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۲، ۱ / ۱۲۸)

💥👈 ذکر کے فضائل:

بکثرت احادیث میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے 10 احادیث کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

1⃣… اللہ کا ذکر ایمانِ کامل کی نشانی ہے۔

(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث معاذ بن جبل، ۸ / ۲۶۶، الحدیث: ۲۲۱۹۱)

2⃣… ذکر اللہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی پانے کا ذریعہ ہے۔

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، باب القصد فی العمل، الفصل الثانی، ۱ / ۲۴۵، الحدیث: ۱۲۵۰)

3⃣… ذکرِ الہٰی عذابِ الہٰی سے نجات دلانے والا ہے۔

(مؤطا امام مالک، کتاب القرآن، باب ما جاء فی ذکر اللہ تبارک وتعالٰی، ۱ / ۲۰۰، الحدیث: ۵۰۱)

4⃣… ذکر کرنے والے قیامت کے دن بلند درجے میں ہوں گے۔

(شرح السنّہ، کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ عزوجلّ ومجالس الذکر، ۳ / ۶۷، الحدیث: ۱۲۳۹)

5⃣… ذکر کے حلقے جنت کی کیاریاں ہیں۔

(ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۲-باب، ۵ / ۳۰۴، الحدیث: ۳۵۲۱)

6⃣… ذکر کرنے والوں کو فرشتے گھیر لیتے اور رحمت ڈھانپ لیتی ہے۔

(ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء فی القوم یجلسون۔۔۔ الخ، ۵ / ۲۴۶، الحدیث: ۳۳۸۹)

7⃣… شب قدر میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام دعائیں دیتے ہیں۔

( شعب الایمان، الباب الثالث والعشرون، فی لیلۃ العید ویومہما، ۳ / ۳۴۳، الحدیث: ۳۷۱۷)

8⃣… ذکر کرنے والوں کی صحبت میں بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔

(مسند امام احمد، مسند المکثرین من الصحابۃ، مسند ابی ہریرۃ، ۳ / ۵۶، الحدیث: ۷۴۲۸)

9⃣… اللہ کا ذکر کرنے سے شیطان دل سے ہٹ جاتا ہے۔

(بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ قل اعوذ برب الناس، ۳ / ۳۹۵)

🔟… اللہ کے ذکر سے دل کی صفائی ہوتی ہے۔

(مشکاۃ المصابیح، کتاب الدعوات، باب ذکر اللہ عزوجل والقرب الیہ، الفصل الثالث، ۱ / ۴۲۷، الحدیث: ۲۲۸۶)

💠👈 {اَذْكُرْكُمْ: میں تمہیں یاد کروں گا۔}

اللہ تعالیٰ اطاعت سے یاد کرنے والوں کو اپنی مغفرت کے ساتھ، شکر کے ساتھ یاد کرنے والوں کو اپنی نعمت کے ساتھ، محبت کے ساتھ یاد کرنے والوں کو اپنے قرب کے ساتھ یاد فرماتا ہے۔

❗بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

🌽👈 میں اپنے بندے کے گمان کے نزدیک ہوتا ہوں جو مجھ سے رکھے اور جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ، اگر بندہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اکیلا ہی یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اسے بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ بالشت بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں گز بھر اس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ گز بھر میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ کے برابر اس سے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کی طرف جاتا ہوں

(یعنی جیسے اللہ کی شایانِ شان ہے یا مراد یہ ہے کہ اللہ کی رحمت اس کی طرف زیادہ تیزی سے متوجہ ہوتی ہے۔)

(بخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی: ویحذرکم اللہ نفسہ، ۴ / ۵۴۱، الحدیث: ۷۴۰۵)

🍒👈 {وَ اشْكُرُوْا لِیْ: اور میرا شکر کرو۔}

جب کفر کا لفظ شکر کے مقابلے میں آئے تو اس کا معنی نا شکری اور جب اسلام یا ایمان کے مقابل ہو تو اس کا معنی بے ایمانی ہوتا ہے۔ یہاں آیت میں کفرسے مراد ناشکری ہے۔

🌱👈 شکر کی تعریف :

شکر کا مطلب ہے کہ کسی کے احسان و نعمت کی وجہ سے زبان، دل یا اعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کی جائے۔

▪حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی :

*یااللہ! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں کہ میرا شکر کرنا بھی تو تیری ایک نعمت ہے۔

❗اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

جب تو نے یہ جان لیا کہ ہر نعمت میری طرف سے ہے اور اس پر راضی رہا تو یہ شکر ادا کرنا ہے۔

(احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، الشطر الثانی، بیان طریق کشف الغطاء ۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۰۵)

💞👈 شکر کے فضائل اور ناشکری کی مذمت:

قرآن و حدیث میں شکر کے کثیر فضائل بیان کئے گئے اور ناشکری کی مذمت کی گئی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ وَ لَىٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ‘‘ (ابراہیم: ۷)

‼تَرجَمَۂِ کَنْزُالعِرفَانْ شَرِیْفْ:‼اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔

🍁👈 اور حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

’’جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے اور وہ کہتا ہے:

’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہْ‘‘ تو یہ کلمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسے نعمت دینے سے بہتر ہوتا ہے۔

(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب فضل الحامدین، ۴ / ۲۵۰، الحدیث: ۳۸۰۵)

🌹👈 حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کی عمر دراز کرتا ہے اور انہیں شکر کا الہام فرماتا ہے۔

(فردوس الاخبار، باب الالف، جماع الفصول منہ فی معانی شتی۔۔۔ الخ، ۱ / ۱۴۸، الحدیث: ۹۵۴)

🍂👈 حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :

اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے پر انعام کرے پھر وہ اس نعمت کا اللہ تعالیٰ کے لئے شکر ادا کرے اور اس نعمت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے لئے تواضع کرے تو اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں اس نعمت سے نفع دیتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے آخرت میں درجات بلند فرماتا ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انعام فرمایا اور اس نے شکر ادا نہ کیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے لئے اس نے تواضع کی تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اس نعمت کا نفع اس سے روک لیتا ہے اور اس کے لئے جہنم کا ایک طبق کھول دیتا ہے ، پھر اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اسے (آخرت میں ) عذاب دے گا یا اس سے در گزر فرمائے گا۔

(رسائل ابن ابی الدنیا، التواضع والخمول، ۳ / ۵۵۵، رقم: ۹۳)

⭕👈 شکر سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے سورۂ ابراہیم کی آیت نمبر 7 کے تحت تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔

× WhatsApp Contact